المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 9299
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: مَرَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى رَجُلٍ سَاجِدٍ، وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ فَحَلَّهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «لَا تَعْقِصْ فَإِنَّ شَعْرَكَ يَسْجُدُ، وَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ أَجْرًا» ، قَالَ: إِنَّمَا عَقَصْتُهُ لِكَيْ لَا يَتَتَرَّبَ، قَالَ: «إِنْ يَتَتَرَّبْ خَيْرٌ لَكَ»ترجمہ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک سجدہ کرتے ہوئے آدمی کے پاس سے گزرے جس کے بال گندھے ہوئے تھے، تو انہوں نے اسے کھول دیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اپنے بال مت باندھا کرو، کیونکہ تمہارے بال بھی سجدہ کرتے ہیں، اور تمہیں ہر بال کے بدلے ثواب ملتا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے تو انہیں صرف اس لیے باندھا تھا کہ ان پر مٹی نہ لگے۔ فرمایا: ”اگر ان پر مٹی لگ جائے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“