حدیث نمبر: 9277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو إِسْحَاقَ: أَذَكَرْتَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، " أَنَّ عَبْدَ اللهِ، قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: ١] حَتَّى بَلَغَ: {نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ} [الأنفال: ٤٠] ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ فِي الثَّانِيَةِ بِسُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ؟ قَالَ: نَعَمْ "
ترجمہ

ابواسحاق سے پوچھا گیا: کیا آپ نے عبدالرحمن بن یزید سے یہ ذکر کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز میں پہلی رکعت میں: ”لوگ آپ سے مالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں“ [سورۃ الانفال: 1] یہاں تک کہ ”وہ بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے“ [سورۃ الانفال: 40] پر پہنچ کر رکوع کیا، پھر دوسری رکعت میں مفصل کی ایک سورت پڑھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9277
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 263، حدیث 9309