حدیث نمبر: 9237
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مُؤَذِّنُوكُمْ عُمْيَانَكُمْ - قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: - وَلَا قُرَّاؤُكُمْ "
ترجمہ

قبیصہ بن برمہ اسدی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ تمہارے مؤذن تمہارے نابینا لوگ ہوں - راوی کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا: - اور نہ ہی تمہارے قاری۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9237
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 256، حدیث 9269