حدیث نمبر: 9230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، أَتَى أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فِي مَنْزِلِهِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَإِنَّكَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ، قَالَ: لَا بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ، وَمَسْجِدِكَ، فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: مَا أَرَدْتَ إِلَى خَلْعِهَا أَبِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى أَنْتَ؟ لَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي فِي الْخُفَّيْنِ، وَالنَّعْلَيْنِ»
ترجمہ

…انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ ہی آگے بڑھیں، کیونکہ ہم تو آپ کے گھر اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں۔ چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اپنے جوتے اتار دیے۔ جب نماز پڑھ چکے تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے انہیں اتارنے کا ارادہ کیوں کیا، کیا آپ مقدس وادیِ طویٰ میں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں اور جوتوں میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9230
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 255، حدیث 9262