حدیث نمبر: 9153
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، عَنِ النَّبِيذِ؟ فَقَالَ: لَا أَشْرَبُ إِلَّا فِي شَيْءٍ مُوَكًّا، فَقَالَ ابْنُهُ: أَلَيْسَ قَدْ «كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَشْرَبُ عِنْدَكُمْ فِي الْجَرِّ الْأَخْضَرِ؟» قَالَ: بَلَى
ترجمہ

عیسیٰ بن عبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں: میں نے حسن (بصری) سے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں تو صرف ایسے برتن میں پیتا ہوں جس کا منہ باندھا ہوا ہو۔ اس پر ان کے بیٹے نے کہا: کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ کے ہاں سبز مٹکے میں سے نہیں پیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9153
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 241، حدیث 9185