حدیث نمبر: 9148
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ: أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ اسْتَقْرَضَ مِنْ عَبْدِ اللهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَقْرَضَهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا خَرَجَ الْعَطَاءُ جَاءَهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: هَذَا مَالُكَ، قَالَ: «هَاتِهِ» ، فَأَخَذَهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «لَوْلَا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُخَالِفَكَ لَأَمْسَكْتُ الْمَالَ» ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «نَحْنُ أَحَقُّ بِهِ» فَجَلَسَ يَتَحَدَّثُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَ فَانْطَلَقَ عَلْقَمَةُ فَلَمَّا بَلَغَ أَصْحَابَ التَّوَابِيتِ أَرْسَلَ عَلَى أَثَرِهِ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: «مُحْتَاجٌ أَنْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «خُذِ الْمَالَ» ، فَلَمَّا أَخَذَهُ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَأَنْ أُقْرِضَ مَالًا مَرَّتَيْنِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ مَرَّةً»
ترجمہ

حمید بن عبداللہ ثقفی بیان کرتے ہیں کہ علقمہ بن قیس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک ہزار درہم قرض مانگا تو انہوں نے انہیں قرض دے دیا۔ جب (بیت المال کا) عطیہ نکلا تو وہ ایک ہزار درہم لے کر آئے اور کہا: یہ آپ کا مال ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لے آؤ۔“ چنانچہ انہوں نے وہ لے لیا، پھر فرمایا: ”اگر مجھے تمہاری مخالفت کرنا ناپسند نہ ہوتا تو میں یہ مال روک لیتا۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں۔“ پھر وہ کچھ دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے، پھر علقمہ اٹھ کر چلے گئے۔ جب وہ تابوت بنانے والوں کی جگہ تک پہنچے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں واپس بلایا اور پوچھا: ”کیا تمہیں ضرورت ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”مال لے لو۔“ جب انہوں نے وہ لے لیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے نزدیک کسی کو دو بار قرض دینا، ایک بار صدقہ دینے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9148
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 240، حدیث 9180