حدیث نمبر: 9091
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يُنْقُرُ رَأْسَهُ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ " {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: ١٨٠]
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس کے پاس مال ہو اور وہ اس کی زکاۃ ادا نہ کرے، اسے قیامت کے دن ایک گنجا سانپ طوق بنا کر پہنایا جائے گا جو اس کا سر نوچے گا اور کہے گا: میں تیرا وہی مال ہوں جس میں تو بخل کرتا تھا۔“ (اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) ”عنقریب وہ چیز جس میں انہوں نے بخل کیا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بنا دی جائے گی“ [سورۃ آل عمران: 180]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9091
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 229، حدیث 9123