حدیث نمبر: 8867
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالٍ الْوَزَّانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَبْدَأُ بِالْيَمِينِ قَبْلَ الْكَلَامِ، فَقَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّ رَبَّهُ سَيَخْلُو بِهِ كَمَا يَخْلُو أَحَدُكُمْ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَيَقُولُ: ابْنَ آدَمَ مَا غَرَّكَ بِي؟ ابْنَ آدَمَ مَا غَرَّكَ بِي؟ ابْنَ آدَمَ، مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ؟ ابْنَ آدَمَ مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ؟ ابْنَ آدَمَ مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ؟ ابْنَ آدَمَ مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ؟ "
ترجمہ

عبداللہ بن عُکَیم بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس مسجد میں کلام سے پہلے قسم کھاتے سنا، تو فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کا رب اس کے ساتھ اسی طرح تنہائی اختیار کرے گا جیسے تم میں سے کوئی چودھویں رات کے چاند کے ساتھ تنہائی اختیار کرتا ہے، تو وہ فرمائے گا: اے ابن آدم! تجھے میرے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈالا؟ اے ابن آدم! تجھے میرے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈالا؟ اے ابن آدم! تو نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا؟ اے ابن آدم! تو نے جو کچھ جانا اس پر کیا عمل کیا؟ اے ابن آدم! تو نے جو کچھ جانا اس پر کیا عمل کیا؟ اے ابن آدم! تو نے جو کچھ جانا اس پر کیا عمل کیا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8867
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 182، حدیث 8899