حدیث نمبر: 8648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ الْقُرَّاءَ فَسَمِعْتُهُمْ مُتَقَارِبِينَ، فَاقْرَءُوا كَمَا عَلِمْتُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالِاخْتِلَافَ فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ: هَلُمَّ وَتَعَالَ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے قاریوں کو سنا ہے تو انہیں ایک دوسرے کے قریب قریب پایا، تو تم بھی اسی طرح پڑھو جیسا تم نے سیکھا ہے، اور تکلف اور اختلاف سے بچو، کیونکہ یہ فرق تو ایسا ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی کہے: ”ہلم“ اور ”تعال“ (دونوں کا معنی ایک ہی ہے: آؤ)۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8648
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 138، حدیث 8680