المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أهبان بن صيفي الغفاري مات بالبصرة باب: سیدنا اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ، جن کا انتقال بصرہ میں ہوا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَهْدَمِ بْنِ الْحَارِثِ الْغِفَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: قَالَ لِي أُهْبَانُ بْنُ صَيْفِيٍّ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُهْبَانُ، أَمَا إِنَّكَ إِنْ بَقِيتَ بَعْدِي فَسَتَرَى فِي أَصْحَابِي اخْتِلَافًا، فَإِنْ بَقِيتَ إِلَى ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَاجْعَلْ سَيْفَكَ مِنْ عَرَاجِينَ» قَالَ: فَجَعَلْتُ سَيْفِي مِنْ عَرَاجِينَ، فَأَتَانِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أُهْبَانُ، أَلَا تَخْرُجُ؟ فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا أَبَا الْحَسَنِ، قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ تَقَدَّمَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَكَّ ابْنُ زَهْدَمٍ - فَقَالَ: «يَا أُهْبَانُ، أَمَا إِنَّكَ إِنْ بَقِيتَ بَعْدِي فَسَتَرَى فِي أَصْحَابِي اخْتِلَافًا، فَإِنْ بَقِيتَ إِلَى ذَلِكَ الْيَوْمِ فَاجْعَلْ سَيْفَكَ مِنْ عَرَاجِينَ» فَأَخْرَجْتُ إِلَيْهِ سَيْفِي فَوَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُزہدم بن حارث غفاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے اہبان! سن لو، اگر تم میرے بعد زندہ رہے تو میرے صحابہ میں اختلاف دیکھو گے، اگر تم اس دن تک زندہ رہو تو اپنی تلوار کھجور کی شاخوں سے بنا لینا۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اپنی تلوار کھجور کی شاخوں سے بنا لی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، دروازے کی چوکھٹ پکڑی، پھر سلام کیا، اور کہا: اے اہبان! کیا تم نہیں نکلو گے؟ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے ابوالحسن! رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا - یا مجھے حکم دیا تھا، یا مجھے نصیحت کی تھی، یا مجھے یہ بات پہلے ہی بتا دی تھی - ابن زہدم کو شک تھا - آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اہبان! اگر تم میرے بعد زندہ رہے تو میرے صحابہ میں اختلاف دیکھو گے، اگر تم اس دن تک زندہ رہو تو اپنی تلوار کھجور کی شاخوں سے بنا لینا۔“ چنانچہ میں نے اپنی تلوار انہیں دکھائی، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس مڑ گئے۔