المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أهبان بن صيفي الغفاري مات بالبصرة باب: سیدنا اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ، جن کا انتقال بصرہ میں ہوا
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ جَرَادَانَ، عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْبَصْرَةَ جَاءَنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، فَقَالَ: هَهُنَا أَبُو مُسْلِمٍ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَلَا تُعِينُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، يَا جَارِيَةُ، ائْتِينِي بِذَاكَ السَّيْفِ، فَجَاءَتْ بِسَيْفِهِ فَسَلَّهُ، فَإِذَا سَيْفٌ مِنْ خَشَبٍ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُسْلِمٍ: إِنَّ ابْنَ عَمِّكَ، يَعْنِي " النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ: إِذَا كَانَتْ فِتْنَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ " فَوَلَّى عَلَيٌّ غَضْبَانَ، فَقَالَ: لَيْسَ لَنَا فِيكَ حَاجَةٌ، وَلَا فِي سَيْفِكَ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ: فَحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هَذَا الشَّيْخِ قَبْلَ أَنْ أَلْقَاهُسیدہ عدیسہ بنت اہبان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ تشریف لائے تو ہمارے گھر آئے اور پوچھا: کیا یہاں ابومسلم ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ وہ ان کے پاس نکلے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم اس معاملے میں ہماری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے باندی! وہ تلوار میرے پاس لاؤ۔ وہ ان کی تلوار لے آئی، انہوں نے اسے میان سے نکالا تو وہ لکڑی کی تلوار تھی! ابومسلم نے ان سے کہا: تمہارے چچا زاد نے - یعنی نبی کریم ﷺ نے - مجھے حکم دیا تھا کہ اگر مسلمانوں کے درمیان فتنہ ہو تو میں لکڑی کی تلوار اختیار کروں۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے سے واپس مڑے اور کہا: نہ ہمیں تمہاری ضرورت ہے، نہ تمہاری تلوار کی۔
یزید بن زریع کہتے ہیں: مجھے یہ حدیث یونس بن عبید نے اس بزرگ سے (روایت کر کے) اس سے پہلے سنائی تھی کہ میں خود ان سے ملتا۔