حدیث نمبر: 8567
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهُنَّ إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَقُومَ فِي الصَّفِّ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ ان فرض نمازوں کی حفاظت کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جاتی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے یہی طریقے مقرر فرمائے ہیں، اور یہ ہدایت کے طریقے ہیں۔ اور اگر تم اپنے گھروں میں اسی طرح نماز پڑھنے لگو جیسے یہ پیچھے رہ جانے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ اور ہم پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ جماعت سے پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق واضح ہو، اور میں نے آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے چلتے دیکھا ہے یہاں تک کہ وہ صف میں کھڑا ہوتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8567
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 117، حدیث 8599