حدیث نمبر: 8566
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَذِهِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فِي الْجَمِيعِ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّكُمْ لَوْ كُنْتُمْ تُصَلُّونَ فِي بُيُوتِكُمِ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُجَاءَ بِهِ فَيُقَامَ فِي الصَّفِّ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ، وَإِنْ كُنَّا لَنُقَارِبُ بَيْنَ الْخُطَا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جہاں ان سب کے لیے اذان دی جاتی ہے، کیونکہ یہ ہدایت کے طریقے ہیں، اور اللہ عزوجل نے تمہارے نبی ﷺ پر ہدایت کے یہی طریقے فرض فرمائے ہیں۔ اور اگر تم بھی اپنے گھروں میں اسی طرح نماز پڑھنے لگو جیسے یہ پیچھے رہ جانے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اسے دو آدمیوں کے سہارے لایا جاتا یہاں تک کہ اسے لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔ اور ہم پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ جماعت سے پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق معلوم تھا، اور ہم قدموں کو ملا ملا کر چلتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8566
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 117، حدیث 8598