حدیث نمبر: 8564
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَعَمْرِي مَا إِخَالُ أَحَدًا مِنْكُمْ إِلَّا قَدِ اتَّخَذَ مِنْ بَيْتِهِ مَسْجِدًا، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ، أَوْ مَعْرُوفٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، فَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ فَيَخْطُو خُطْوَةً يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنُقَارِبُ فِي الْخُطَا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ ان فرض نمازوں کی حفاظت کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جاتی ہے، کیونکہ یہ ہدایت کے طریقے ہیں، اور اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے یہی طریقے مقرر فرمائے ہیں۔ مجھے قسم ہے، میں نہیں سمجھتا کہ تم میں سے کوئی ایسا ہے جس نے اپنے گھر کو مسجد نہ بنا لیا ہو، اور اگر تم اسی طرح اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگو جیسے یہ پیچھے رہ جانے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ میں نے تو ہمیں اس حال میں دیکھا ہے کہ کوئی جماعت سے پیچھے نہیں رہتا تھا سوائے اس منافق کے جس کا نفاق معلوم و معروف ہو۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے چلا کر لایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے صف میں کھڑا کیا جاتا تھا۔ کوئی شخص ایسا نہیں جو اچھی طرح طہارت کرے، پھر مسجدوں میں سے کسی مسجد کی طرف قدم اٹھائے، مگر اللہ اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، اسے ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، حتیٰ کہ ہم قدموں کو ملا ملا کر چلتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8564
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 116، حدیث 8596