المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حدیث نمبر: 8554
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، عَلَى قَوْمٍ لَا يَأْمُرُونَ بِمَعْرُوفٍ، وَلَا يَنْهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ، يَتَهَارَجُونَ كَمَا تَهَارَجُ الْحُمُرُ، أَخَذَ رَجُلٌ بِيَدِ امْرَأَةٍ فَخَلَا بِهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا ثُمَّ رَجَعَ يَضْحَكُ إِلَيْهِمْ وَيَضْحَكُونَ إِلَيْهِ كَرَجْرَاجَةِ التَّمْرِ الْخَبِيثِ الَّذِي لَا يُطْعَمُ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی، ایسے لوگوں پر جو نہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور نہ برائی سے روکتے ہیں، وہ اسی طرح بےباکی سے ملاپ کریں گے جیسے گدھے ملاپ کرتے ہیں۔ کوئی مرد کسی عورت کا ہاتھ پکڑے گا، اس کے ساتھ تنہائی میں چلا جائے گا، اس سے اپنی خواہش پوری کرے گا، پھر لوٹ کر اپنے ساتھیوں کی طرف ہنسے گا اور وہ اس کی طرف ہنسیں گے، جیسے ردی کھجور کا ڈھیر جو کھایا نہیں جاتا۔“