المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حدیث نمبر: 8553
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، مَنْ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا، يَتَهَارَجُونَ كَمَا تَهَارَجُ الْبَهَائِمُ فِي الطَّرِيقِ، تَمُرُّ الْمَرْأَةُ بِالرَّجُلِ فِي الطَّرِيقِ فَيَقُومُ إِلَيْهَا فَيَقْضِي حَاجَتَهُ مِنْهَا، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَصْحَابِهِ فَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ، وَيَضْحَكُونَ إِلَيْهِ كَرَجْرَاجَةِ التَّمْرِ الْخَبِيثِ الَّذِي لَا يُطْعَمُ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت نہیں قائم ہو گی مگر بدترین لوگوں پر، جو نہ نیکی کو پہچانتے ہیں اور نہ برائی کا انکار کرتے ہیں، وہ راستے میں اسی طرح بےباکی سے ملاپ کریں گے جیسے چوپائے راستے میں کرتے ہیں۔ عورت راستے میں کسی مرد کے پاس سے گزرے گی تو وہ اس کی طرف اٹھ کھڑا ہو گا اور اس سے اپنی خواہش پوری کرے گا، پھر اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ کر ان کی طرف ہنسے گا اور وہ اس کی طرف ہنسیں گے، جیسے ردی کھجور کا ڈھیر جو کھایا نہیں جاتا۔“