المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حدیث نمبر: 8542
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ أَخَاكُمْ قَارَفَ ذَنْبًا فَلَا تَكُونُوا أَعْوَانًا لِلشَّيْطَانِ عَلَيْهِ تَقُولُوا: اللهُمَّ اخْزِهِ، اللهُمَّ الْعَنْهُ، وَلَكِنْ سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ فَإِنَّا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّا لَا نَقُولُ فِي أَحَدٍ شَيْئًا حَتَّى نَعْلَمَ عَلَى مَا يَمُوتُ، فَإِنْ خُتِمَ لَهُ بِخَيْرٍ عَلِمْنَا أَنَّهُ قَدْ أَصَابَ خَيْرًا، وَإِنْ خُتِمَ لَهُ بِشَرٍّ خِفْنَا عَلَيْهِ عَمَلَهُ "ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم اپنے کسی بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھو تو اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بن جاؤ کہ یوں کہنے لگو: اے اللہ! اسے رسوا کر، اے اللہ! اس پر لعنت کر، بلکہ اللہ سے اس کے لیے عافیت مانگو، کیونکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہتے تھے جب تک ہمیں معلوم نہ ہو جاتا کہ اس کا خاتمہ کس پر ہوا۔ اگر اس کا خاتمہ خیر پر ہوتا تو ہم جان لیتے کہ اسے خیر نصیب ہوئی، اور اگر اس کا خاتمہ برائی پر ہوتا تو ہمیں اس کے عمل کے بارے میں خوف لاحق ہو جاتا۔“