المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِبَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، وَأَبَا الْكِنْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: «إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ الصَّلَاةُ فِيهِ طَوِيلَةٌ وَالْخُطْبَةُ فِيهِ قَصِيرَةٌ، وَعُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ وَخُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ، وَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ الصَّلَاةُ فِيهِ قَصِيرَةٌ وَالْخُطْبَةُ فِيهِ طَوِيلَةٌ، خُطَبَاؤُهُ كَثِيرٌ وَعُلَمَاؤُهُ قَلِيلٌ يُأَخِّرُونَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَرْقِ الْمَوْتَى فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَلْيَجْعَلْهَا مَعَهُمْ تَطَوُّعًا، إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ يُغْبَطُ الرَّجُلُ فِيهِ عَلَى كَثْرَةِ مَالِهِ وَكَثْرَةِ عِيَالِهِ، وَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُغْبَطُ الرَّجُلُ فِيهِ عَلَى قِلَّةِ عِيَالِهِ وَخِفَّةِ حَادِّهِ، مَا أَدَعُ بَعْدِي فِي أَهْلِي أَحَبَّ إِلَيَّ مَوْتًا مِنْهُمْ، وَلَا أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْجِعْلَانِ، وَإِنِّي لَأُحِبُّهُمْ كَمَا يُحِبُّونَ أَهْلِيكُمْ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم ایسے زمانے میں ہو جس میں نماز لمبی اور خطبہ مختصر ہے، اس کے علماء زیادہ اور خطیب کم ہیں، اور عنقریب تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں نماز مختصر اور خطبہ لمبا ہو گا، اس کے خطیب زیادہ اور علماء کم ہوں گے، وہ نمازِ عشاء کو دیر رات تک، مُردوں کے دفن کے وقت تک مؤخر کر دیں گے، تو تم میں سے جو شخص یہ زمانہ پائے وہ نماز اپنے وقت پر پڑھ لے، پھر ان کے ساتھ اسے نفل کے طور پر دہرا لے۔ تم ایسے زمانے میں ہو جس میں آدمی کو اس کے مال اور اولاد کی کثرت پر رشک کیا جاتا ہے، اور عنقریب تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی کو اس کی اولاد کی کمی اور بوجھ کی ہلکائی پر رشک کیا جائے گا۔ میں اپنے بعد اپنے گھر والوں میں سے کسی کی موت کو اپنے لیے اس سے زیادہ پسند نہیں کرتا (کہ وہ اس فتنے کے زمانے کو پائیں)، اور نہ کسی گھرانے کو گوبر کے کیڑوں سے زیادہ (اہمیت دیتا ہوں)، اور میں انہیں اسی طرح چاہتا ہوں جیسے تم اپنے گھر والوں کو چاہتے ہو۔“