حدیث نمبر: 8534
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ أَضَرَّ بِالدُّنْيَا، وَمَنْ أَرَادَ الدُّنْيَا أَضَرَّ بِالْآخِرَةِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَضُرُّوا بِالْفَانِي لِلْبَاقِي، وَقَالَ: إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ عُلَمَاؤُهُ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ، وَكَثِيرٌ مُعْطُوهُ قَلِيلٌ سُؤَّالُهُ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانًا كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ عُلَمَاؤُهُ، كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ قَلِيلٌ مُعْطُوهُ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو شخص آخرت چاہے وہ دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے، اور جو دنیا چاہے وہ آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے“، اور انہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ فانی چیز کو باقی رہنے والی چیز کے لیے نقصان میں ڈال دیں، اور فرمایا: ”تم ایسے زمانے میں ہو جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطیب کم، اور دینے والے زیادہ ہیں اور مانگنے والے کم، پس تم نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر رکھو، اور بلاغت میں جادو کا سا اثر ہوتا ہے۔ اور تمہارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں خطیب زیادہ ہوں گے اور علماء کم، مانگنے والے زیادہ ہوں گے اور دینے والے کم۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8534
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 108، حدیث 8566