حدیث نمبر: 8521
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حُجَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا قَعَدَ: «إِنَّكُمْ فِي مَمَرِّ اللَّيْلِ فِي آجَالٍ مَنْقُوصَةٍ وَأَعْمَالٍ مَحْفُوظَةٍ، وَالْمَوْتُ يَأْتِي بَغْتَةً فَمَنْ يَزْرَعْ خَيْرًا يُوشِكُ أَنْ يَحْصُدَ رَغْبَةً، وَمَنْ يَزْرَعْ شَرًّا يُوشِكُ أَنْ يَحْصُدَ نَدَامَةً، وَلِكُلِّ زَارِعٍ لَا يَسْبِقُ بَطِيءٌ بِحَظِّهِ وَلَا يُدْرِكُ حَرِيصٌ مَا لَمْ يُقَدَّرْ لَهُ، فَمَنْ أُعْطِيَ خَيْرًا فَاللهُ أَعْطَاهُ، وَمَنْ وُقِيَ شَرًّا فَاللهُ وَقَاهُ، الْمُتَّقُونَ سَادَةٌ وَالْفُقَهَاءُ قَادَةٌ، وَمُجَالَسَتُهُمْ زِيَادَةٌ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب بیٹھتے تو فرماتے: ”تم رات دن کے گزرنے میں ہو، عمریں گھٹتی جا رہی ہیں اور اعمال محفوظ کیے جا رہے ہیں، اور موت اچانک آتی ہے، تو جو خیر بوئے گا وہ عنقریب خوشی سے کاٹے گا، اور جو شر بوئے گا وہ عنقریب ندامت کاٹے گا، اور ہر بونے والے کا اپنا حصہ ہے، نہ سست آدمی اپنے حصے سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ حریص وہ پا سکتا ہے جو اس کے مقدر میں نہیں، تو جسے خیر دی جائے وہ اللہ ہی کی طرف سے دی گئی ہے، اور جو شر سے بچایا جائے تو اللہ ہی نے اسے بچایا ہے۔ متقی لوگ سردار ہیں اور فقہاء رہنما ہیں، اور ان کی مجلس (میں بیٹھنا انسان کے لیے) اضافے کا باعث ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8521
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 105، حدیث 8553