حدیث نمبر: 8519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَيْسَ عَامٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، وَلَا عَامٌ خَيْرٌ مِنْ عَامٍ، وَلَا أُمَّةٌ خَيْرٌ مِنْ أُمَّةٍ، وَلَكِنْ ذَهَابُ خِيَارِكُمْ وَعُلَمَائِكُمْ، وَيُحَدِّثُ قَوْمٌ يَقِيسُونَ الْأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ فَيَنْهَدِمُ الْإِسْلَامُ وَيَنْثَلِمُ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو سال بھی آتا ہے اس کے بعد والا سال اس سے بدتر ہوتا ہے، اور نہ کوئی سال (اپنی ذات میں) کسی سال سے بہتر ہے اور نہ کوئی امت کسی امت سے بہتر ہے، بلکہ (خرابی کی اصل وجہ) تمہارے بہترین لوگوں اور علماء کا اٹھ جانا ہے، اور کچھ لوگ اپنی رائے سے معاملات کو ناپیں گے تو اسلام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8519
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 105، حدیث 8551