المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِنَّ الْجَبَلَ لَيُنَادِي الْجَبَلَ بِاسْمِهِ: أَيْ فُلَانُ، هَلْ مَرَّ بِكَ الْيَوْمَ أَحَدٌ ذَكَرَ اللهَ؟ فَإِذَا قَالَ: نَعَمْ، اسْتَبْشَرَ "، قَالَ عَوْنٌ: «فَيَسْتَمِعْنَ الشَّرَّ وَلَا يَسْتَمِعْنَ الْخَيْرَ هُنَّ لِلْخَيْرِ أَسْمَعُ» ، وَقَرَأَ: {وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا، وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا} [مريم: ٨٩]سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بے شک پہاڑ دوسرے پہاڑ کو نام لے کر پکارتا ہے: اے فلاں! کیا آج تیرے پاس سے کوئی ایسا شخص گزرا جس نے اللہ کو یاد کیا ہو؟ اگر وہ کہے: ہاں، تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔“ عون کہتے ہیں: ”وہ (پہاڑ) شر کی بات سنتے ہیں اور خیر کی بات نہیں سنتے، حالانکہ وہ خیر کی بات سننے کے زیادہ لائق ہیں“، اور یہ آیت پڑھی: ”اور انہوں نے کہا کہ رحمٰن نے بیٹا بنا لیا ہے، بے شک تم نے ایک سخت بات کہی ہے، قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں، اس بات پر کہ انہوں نے رحمٰن کے لیے بیٹا تجویز کیا، حالانکہ رحمٰن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ بیٹا بنائے“ [سورۃ مریم: 89]۔