حدیث نمبر: 8505
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللهِ: أَوْصِنِي بِكَلِمَاتٍ جَوَامِعٍ نَوَافِعٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «اعْبُدِ اللهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَزُلْ مَعَ الْقُرْآنِ حَيْثُ زَالَ، وَمَنْ أَتَاكَ بِحَقٍّ فَاقْبَلْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ بَعِيدًا، وَمَنْ أَتَاكَ بِبَاطِلٍ فَارْدُدْهُ وَإِنْ كَانَ حَبِيبًا قَرِيبًا»
ترجمہ

ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے جامع اور نفع بخش باتوں کی وصیت کیجیے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور قرآن کے ساتھ اسی طرح چلو جدھر وہ لے جائے، اور جو تمہارے پاس حق لے کر آئے اسے قبول کر لو خواہ وہ اجنبی ہو، اور جو تمہارے پاس باطل لے کر آئے اسے رد کر دو خواہ وہ محبوب اور قریبی ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8505
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 102، حدیث 8537