حدیث نمبر: 8500
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ يُقَرِّبُ إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يُقَرِّبُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ يُقَرِّبُ إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يُقَرِّبُ إِلَى النَّارِ، إِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ: صَدَقَ وَبَرَّ، وَلِلْكَاذِبِ: كَذَبَ وَفَجَرَ، أَلَا وَإِنَّ لِلْمَلَكِ لَمَّةٌ، وَلِلشَّيْطَانِ لَمَّةٌ، فَلَمَّةُ الْمَلَكِ إِيعَادٌ لِلْخَيْرِ، وَلَمَّةُ الشَّيْطَانِ إِيعَادٌ بِالشَّرِّ، فَمَنْ وَجَدَ لَمَّةَ الْمَلَكِ فَلْيَحْمَدِ اللهَ، وَمَنْ وَجَدَ لَمَّةَ الشَّيْطَانِ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ} [البقرة: ٢٦٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: أَلَا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ رَجُلٍ قَامَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ وَلِحَافِهِ وَدِثَارِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاةٍ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ: مَا حَمَلَ عَبْدِي هَذَا عَلَى مَا صَنَعَ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا رَجَاءَ مَا عِنْدَكَ، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدَكَ، فَيَقُولُ: فَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا رَجَا وَأَمَّنْتُهُ مِمَّا خَافَ، وَرَجُلٍ كَانَ فِي فِئَةٍ فَعَلِمَ مَا لَهُ فِي الْفِرَارِ، وَعَلِمَ مَا لَهُ عِنْدَ اللهِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ: مَا حَمَلَ عَبْدِي هَذَا عَلَى مَا صَنَعَ؟، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا رَجَاءَ مَا عِنْدَكَ، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدَكَ، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا رَجَا وَأَمَّنْتُهُ مِمَّا خَافَ " أَوْ كَلِمَةً شَبِيهَةً بِهَا
ترجمہ

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو! سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ نیکی کے قریب کرتی ہے، اور نیکی جنت کے قریب کرتی ہے۔ اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ یہ بدکاری کے قریب کرتا ہے، اور بدکاری جہنم کے قریب کرتی ہے۔ سچے سے کہا جاتا ہے: ’اس نے سچ کہا اور نیکی کی‘، اور جھوٹے سے کہا جاتا ہے: ’اس نے جھوٹ بولا اور بدکاری کی۔‘ خبردار! فرشتے کی ایک تحریک ہے اور شیطان کی بھی ایک تحریک ہے، فرشتے کی تحریک خیر کا وعدہ دلاتی ہے، اور شیطان کی تحریک شر کی دھمکی دیتی ہے۔ تو جو فرشتے کی تحریک پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے، اور جو شیطان کی تحریک پائے وہ اس سے پناہ مانگے، کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور تمہیں (بے حیائی کا) حکم دیتا ہے“ [سورۃ البقرہ: 268]، آیت کے آخر تک۔“ نیز فرمایا: ”خبردار! اللہ عزوجل دو آدمیوں پر خوش ہوتا ہے: ایک وہ شخص جو ٹھنڈی رات میں اپنے بستر، لحاف اور کمبل سے اٹھتا ہے، وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اللہ عزوجل اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: ’میرے اس بندے کو کس چیز نے اس کام پر آمادہ کیا؟‘ وہ عرض کرتے ہیں: ’اے ہمارے رب! تیرے پاس جو کچھ ہے اس کی امید اور تیرے پاس جو کچھ ہے اس کا خوف۔‘ اللہ فرماتا ہے: ’میں نے اسے وہ دے دیا جس کی اس نے امید کی، اور اسے اس چیز سے امن دے دیا جس سے وہ ڈرتا تھا۔‘ اور دوسرا وہ شخص جو ایک لشکر میں تھا اور اسے معلوم تھا کہ بھاگنے میں اس کا کیا انجام ہے، اور یہ بھی معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں (ثابت قدم رہنے میں) اس کے لیے کیا ہے، تو وہ لڑا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ تو اللہ فرشتوں سے فرماتا ہے: ’میرے اس بندے کو کس چیز نے اس کام پر آمادہ کیا؟‘ وہ عرض کرتے ہیں: ’اے ہمارے رب! تیرے پاس جو کچھ ہے اس کی امید اور تیرے پاس جو کچھ ہے اس کا خوف۔‘ اللہ فرماتا ہے: ’میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے وہ دے دیا جس کی اس نے امید کی، اور اسے اس چیز سے امن دے دیا جس سے وہ ڈرتا تھا‘“ - یا اسی جیسے الفاظ میں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8500
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 101، حدیث 8532