حدیث نمبر: 8499
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ رَبَاحٍ النَّخَعِيِّ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُنَا كُلَّ خَمِيسٍ فَيَقُولُ: «إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَإِنَّكُمْ مَجْمُوعُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ يَنْفُذُكُمُ الْبَصَرُ وَيُسْمِعُكُمُ الدَّاعِي، أَلَا وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ»
ترجمہ

رباح نخعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں ہر جمعرات کو خطبہ دیتے اور فرماتے: ”سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے، اور ہر نئی ایجاد کردہ بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور سب سے بری چیز نئی ایجاد کردہ باتیں ہیں، اور تم سب ایک ہی میدان میں جمع کیے جاؤ گے، جہاں نظر تم سب کو دیکھ لے گی اور پکارنے والا تم سب کو سنائے گا۔ سن لو! بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھ دیا گیا، اور خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت پکڑے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8499
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 100، حدیث 8531