حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: سَافَرْتُ مَعَ سَعْدٍ «فَبَالَ وَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَمَّ النَّاسَ» فَعِبْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَرْضَى بِأَبِيكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: إِنِّي بُلْتُ ثُمَّ تَوَضَّأْتُ فَمَسَحْتُ عَلَى خُفِّي، ثُمَّ صَلَّيْتُ. فَقَالَ: «أَحْسَنْتَ وَأَصَبْتَ السُّنَّةَ» . قَالَ: إِنَّ ابْنَكَ عَبْدُ اللهِ عَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ. فَقَالَ: «يَا سَعْدُ أَنْتَ كُنْتَ أَكْبَرَ مِنْهُ وَأَعْلَمَ»
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر پر تھا، انہوں نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر لوگوں کی امامت کرائی۔ میں نے اس پر ان پر اعتراض کیا۔ تو انہوں نے فرمایا: کیا تم اپنے والد (عمر رضی اللہ عنہ) کی رائے پر راضی ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ ہم امیر المومنین کے پاس اکٹھے ہوئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا: میں نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزے پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور سنت کو پا لیا۔“ سعد نے عرض کیا: آپ کے بیٹے عبداللہ نے اس پر مجھ پر اعتراض کیا تھا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے سعد! تم اس سے بڑے اور زیادہ علم والے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 85
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 73، حدیث 86