حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ عَلَيْنَا أَمِيرٌ: مَنْ أُعْطِيَ بِدِرْهَمٍ مِائَةَ دِرْهَمٍ فَلْيَأْخُذْهَا. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلِ، لَا زِيَادَةَ فَمَا زَادَ فَهُوَ رِبًا» قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ فَاسْأَلْ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ ذَلِكَ. فَانْطَلَقَ فَسَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو سَعِيدٍ فَاسْتَغْفَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَالَ: هَذَا رَأْيٌ رَأَيْتُهُ
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما جب ہمارے حاکم تھے تو انہوں نے کہا: جسے ایک درہم کے بدلے سو درہم دیے جائیں وہ لے لے۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ منبر پر فرمایا کرتے تھے: ”سونا سونے کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ برابر برابر ہو، کوئی زیادتی نہ ہو، جو زیادہ ہو وہ سود ہے۔“ سیدنا ابن عمر نے کہا: اگر تمہیں شک ہو تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھ لو۔ چنانچہ راوی گئے اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بھی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا گیا کہ ابن عمر اور ابوسعید نے کیا کہا ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے استغفار کیا اور فرمایا: یہ تو میری اپنی ایک رائے تھی جو میں نے قائم کی تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 84
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 72، حدیث 85