المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حدیث نمبر: 8478
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: «لَا تُكْثِرُوا ذِكْرَهُ فَإِنَّ الْأَمْرَ إِذَا قُضِيَ فِي السَّمَاءِ كَانَ أَسْرَعُ لِنُزُولِهِ إِلَى الْأَرْضِ أَنْ يَظْهَرَ عَلَى أَلْسِنَةِ النَّاسِ» ، قَالَ: «أَلَا وَكَيْفَ بِكُمْ وَالْقَوْمُ آمِنُونَ وَأَنْتُمْ خَائِفُونَ؟ وَكَيْفَ بِكُمْ وَالْقَوْمُ فِي الظِّلِّ وَأَنْتُمْ فِي الضِّحِّ؟»ترجمہ
اشعث بن ابی الشعثاء رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا زیادہ ذکر نہ کیا کرو، کیونکہ جب آسمان میں کسی معاملے کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو اس کے زمین پر اترنے میں سب سے تیز چیز یہ ہے کہ وہ لوگوں کی زبانوں پر آ جائے۔“ نیز فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگ (کافر) امن میں ہوں اور تم خوفزدہ ہو؟ اور تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگ سائے میں ہوں اور تم دھوپ میں ہو؟“