المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حدیث نمبر: 8456
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بِحِذَاءِ دَارِ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: «مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَشْبَهُ دَلًّا وَلَا سَمْتًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَاحِبِ هَذِهِ الدَّارِ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ حَتَّى يَدْخُلَ مَنْزِلَهُ فَإِذَا تَوَارَى فَاللهُ أَعْلَمُ، لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْظُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مِنْ أَقْرَبِهِمْ وَسِيلَةً إِلَى اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»ترجمہ
عبدالرحمٰن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے بیٹھے تھے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ وضع اور وقار میں رسول اللہ ﷺ سے اس گھر والے سے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی اور ہے، جب سے وہ نکلتا ہے یہاں تک کہ اپنے گھر میں داخل ہو جاتا ہے، پھر جب وہ اوجھل ہو جائے تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ محمد ﷺ کے صحابہ میں سے خوش نصیب لوگ جانتے ہیں کہ وہ ان میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قرب رکھنے والوں میں سے ہیں قیامت کے دن۔“