المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حدیث نمبر: 8448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ حُذَيْفَةَ، فَأَقْبَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: «إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ هَدْيًا، وَدَلًّا وَقَصْدًا وَخُطْبَةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَلَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ لَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْظُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ مِنْ أَقْرَبِهِمْ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ»ترجمہ
شقیق بیان کرتے ہیں کہ میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے وہ شخص جو گھر سے نکلنے سے لے کر واپسی تک - میں نہیں جانتا وہ اپنے گھر میں کیا کرتا ہے - ہدی، وضع، طریقہ اور خطبہ میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے وہ عبداللہ بن مسعود ہیں۔ اللہ کی قسم، محمد ﷺ کے صحابہ میں سے خوش نصیب لوگ جانتے ہیں کہ عبداللہ قیامت کے دن ان میں سب سے زیادہ قرب رکھنے والوں میں سے ہیں۔“