❮
❯
حدیث نمبر: 8443
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ التُّوزِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " أَتَيْتُ عَلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ صَرِيعٌ فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفٍ كَانَ مَعِي كَلِيلٍ، فَبَدَرَ سَيْفُهُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُهُ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ كَأَنَّمَا أُقَلُّ مِنَ الْأَرْضِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ: «اللهِ؟» قُلْتُ: اللهِ، حَتَّى حَلَّفَنِي ثَلَاثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْطَلِقْ فَأَرِنِيهِ» فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ: «هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بدر کے دن ابوجہل کے پاس آیا جبکہ وہ زخمی حالت میں گرا پڑا تھا، تو میں نے اپنی ایک کند تلوار سے اسے مارا، اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی، میں نے وہ اٹھا لی اور اسے قتل کر دیا۔ پھر میں سخت گرمی کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس اس طرح پہنچا گویا میرے پاؤں زمین سے اٹھے ہوئے ہوں، اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم“، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے مجھے تین بار قسم دلائی، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ مجھے اسے دکھاؤ۔“ چنانچہ میں اس کے پاس گیا، تو جب آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8443
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 85، حدیث 8475