المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي غَنَمٍ لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَأَتَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ هَلْ مَعَكَ مِنْ لَبَنٍ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ، قَالَ: «فَائْتِنِي بِشَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ» فَأَتَيْتُهُ بِعَنَاقٍ أَوْ جَذَعَةٍ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الضَّرْعَ وَيَدْعُو حَتَّى أَنْزَلَتْ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ بِصَخْرَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا ثُمَّ نَاوَلَ أَبَا بَكْرٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ: «اقْلِصْ بِإِذْنِ اللهِ» فَقَلَصَ فَعَادَ إِلَى مَا كَانَ
فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ أَوْ مِنْ هَذَا الْكَلَامِ، فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: «إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ» فَلَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً مَا يُنَازِعُنِي فِيهَا بَشَرٌسیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریوں میں تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لڑکے! کیا تمہارے پاس دودھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں، لیکن میں امانت دار ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ایسی بکری لا دو جس پر نر نہ چڑھا ہو۔“ چنانچہ میں ایک بکری یا میمنہ لے آیا، تو آپ ﷺ تھن پر ہاتھ پھیرنے اور دعا کرنے لگے، یہاں تک کہ اس میں دودھ اتر آیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے آئے، تو آپ ﷺ نے اس میں دودھ دوہا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا تو انہوں نے پیا، پھر آپ ﷺ نے ان کے بعد پیا، پھر تھن سے فرمایا: ”اللہ کے حکم سے سکڑ جا“، تو وہ سکڑ کر پہلے جیسا ہو گیا۔
پھر اس کے بعد میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: ”مجھے اس قرآن یا اس کلام میں سے کچھ سکھا دیجیے“، تو آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”تم ایک سکھایا ہوا لڑکے ہو۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں حاصل کیں، جن میں کوئی انسان مجھ سے نزاع نہیں کرتا۔