المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حدیث نمبر: 8422
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ مَوْلَى حُوَيْطِبٍ: أَنَّ سَارَةَ بِنْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أَبَاهَا أَخْبَرَهَا، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هَمَزَهُ أَصْحَابُهُ - أَوْ بَعْضُهُمْ - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَعَبْدُ اللهِ فِي الْمَوَازِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ» كَأَنَّهُمْ عَجِبُوا مِنْ خِفَّتِهِترجمہ
(ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی) بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چل رہے تھے کہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی نے - یا بعض نے - انہیں دھکیلا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عبداللہ قیامت کے دن میزان میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہوں گے“، گویا انہیں ان کی (جسمانی) ہلکے پن پر تعجب ہوا تھا۔