المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الأحنف بن قيس، عن الأسود بن سريع باب: احنف بن قیس کی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدْلُونَ بِحُجَّةٍ: أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرَمٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَأَمَّا الْأَصَمُّ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، جَاءَ وَالصِّبْيَانُ يَقْذِفُونِي بِالْبَعْرِ، وَأَمَّا الْهَرَمُ فَيَقُولُ: لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ فَيَقُولُ: رَبِّ مَا أَتَانِي رَسُولُكَ، فَيَأْخُذَ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعَنَّهُ، فَيُرْسِلَ إِلَيْهِمْ رَسُولًا أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا لَكَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا "سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن چار قسم کے لوگ عذر پیش کریں گے: بہرا جو سن نہیں سکتا، عقل سے کورا آدمی، بوڑھا شخص، اور وہ جو دورِ فترت میں فوت ہوا۔ بہرا کہے گا: اے رب! اسلام آیا تو بچے مجھ پر مینگنیاں پھینک رہے تھے۔ بوڑھا کہے گا: اسلام آیا تو مجھے کچھ سمجھ نہیں تھی۔ اور جو دورِ فترت میں فوت ہوا وہ کہے گا: اے رب! میرے پاس تیرا کوئی رسول نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے یہ عہد لے گا کہ وہ ضرور اطاعت کریں گے، پھر ان کی طرف ایک قاصد بھیجے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ اس میں داخل ہو جائیں تو وہ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے۔“