المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عثمان بن طلحة باب: سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 8364
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ خَالِهِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عُثْمَانَ: لِمَ أَرْسَلَ إِلَيْكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خُرُوجِهِ مِنَ الْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: قَالَ لِي: «رَأَيْتُ قَرْنَيِ الْكَبْشِ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ مُصَلِّيًا»ترجمہ
بنو سلیم کی ایک خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے سیدنا عثمان (بن طلحہ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی کریم ﷺ نے کعبہ سے نکلنے کے بعد آپ کی طرف (دوبارہ کسی کو) کیوں بھیجا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میں نے مینڈھے کے دونوں سینگ دیکھے، اور میں تمہیں یہ حکم دینا بھول گیا کہ تم انہیں ڈھانپ دو، کیونکہ گھر (کعبہ) میں ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے جو نمازی کو مشغول کر دے۔“