المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من أخباره باب: ان کے بعض واقعات
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا نَكَحْتُهَا حِينَ نَكَحْتُهَا رَغْبَةً فِي مَالٍ، وَلَا وَلَدٍ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تُخْبِرَنِي عَنْ لَيْلِ عُمَرَ، فَسَأَلَهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ عُمَرَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ «يُصَلِّي الْعَتَمَةَ، ثُمَّ يَأْمُرُنَا أَنْ نَضَعَ عِنْدَ رَأْسِهِ تَوْرًا مِنْ مَاءٍ وَنُغَطِّيهِ، وَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَضَعُ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، فَيَمْسَحُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ يَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَ، ثُمَّ يَتَعَارَّ مِرَارًا حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى السَّاعَةِ الَّتِي يَقُومُ فِيهَا لِصَلَاتِهِ» فَقَالَ لَهُ ابْنُ بُرَيْدَةَ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي بِنْتُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: ثِقَةٌ وَاللهِ…اس نے کہا: اللہ کی قسم، جب میں نے اس سے نکاح کیا تو مال یا اولاد کی خواہش میں نہیں کیا تھا، بلکہ میں چاہتا تھا کہ وہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی راتوں کے بارے میں بتائے۔ چنانچہ اس نے اس سے پوچھا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رات کی نماز کیسی تھی؟ اس نے کہا: وہ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر ہمیں حکم دیتے کہ ہم ان کے سرہانے پانی کا ایک برتن رکھ دیں اور اسے ڈھانپ دیں، اور وہ رات کو (نیند سے) بیدار ہوتے تو اپنا ہاتھ پانی میں ڈالتے، اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتے، پھر جتنی دیر چاہتے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے، پھر بار بار (نیند سے) بیدار ہوتے یہاں تک کہ وہ وقت آ جاتا جس میں وہ اپنی (تہجد کی) نماز کے لیے کھڑے ہوتے۔ تو ابن بریدہ نے اس سے کہا: تمہیں یہ کس نے بتایا؟ اس نے کہا: مجھے عثمان بن ابی العاص کی بیٹی نے بتایا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، وہ (تو) قابلِ اعتماد ہیں۔