المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
المغيرة بن شعبة، عن عثمان بن أبي العاص باب: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ - وَكَانَ شَابًّا -: وَفَدْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَنِي أَفْضَلَهُمْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، وَقَدْ فَضَلْتُهُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَمَّرْتُكَ عَلَى أَصْحَابِكَ، وَأَنْتَ أَصْغَرُهُمْ، فَإِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأُمَّهُمْ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ وَرَاءَكَ الْكَبِيرَ وَالصَّغِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا كُنْتَ مُصَدِّقًا فَلَا تَأْخُذِ الشَّافِعَ - وَهِي الْمَاخِضُ - وَلَا الرُّبَّى وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَحَزْرَةُ الرَّجُلِ هُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْكَ، وَلَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ، واعْلَمْ أَنَّ الْعُمْرَةَ هِي الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، وَأَنَّ عُمْرَةً خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَحَجَّةٌ خَيْرٌ مِنْ عُمْرَةٍ»سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے — جو اس وقت نوجوان تھے — کہا: ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے مجھے قرآن حاصل کرنے میں ان سب سے بہتر پایا، اور میں نے سورۃ البقرہ (کے حفظ) میں ان سب پر سبقت لے لی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تمہارے ساتھیوں پر امیر بنایا ہے، حالانکہ تم ان میں سب سے چھوٹے ہو۔ پس جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو ان کے سب سے کمزور فرد کے حساب سے امامت کرو، کیونکہ تمہارے پیچھے بڑے، چھوٹے، کمزور اور حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اور جب تم (زکوٰۃ) وصول کرنے والے بنو تو شافع یعنی حاملہ (جانور) مت لو، نہ ہی رُبّٰی (یعنی حال ہی میں بچہ جننے والی جو اسے دودھ پلا رہی ہو)، اور نہ ہی بکریوں کا نر، اور آدمی کی پسندیدہ (بہترین) چیز پر تم سے زیادہ اسی کا حق ہے۔ اور قرآن کو مت چھونا مگر جب تم باوضو ہو۔ اور یہ جان لو کہ عمرہ چھوٹا حج ہے، اور عمرہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے، اور حج عمرے سے بہتر ہے۔“