المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نسبة عثمان بن مظعون " عثمان بن مظعون بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح بن عمرو بن هصيص بن كعب يكنى أبا السائب، وكان من مهاجرة الحبشة، وقدم مكة قبل الهجرة فهاجر إلى المدينة، وشهد بدرا " باب: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نسب: عثمان بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمرو بن ہصیص بن کعب، کنیت ابوسائب، حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے تھے، ہجرت سے پہلے مکہ آئے پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی، اور بدر میں شریک ہوئے
حدیث نمبر: 8285
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتِ امْرَأَتُهُ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ فَنَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةَ غَضْبَانٍ، فَقَالَ: «وَمَا يُدْرِيكِ؟» فَقَالَتْ: فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ، فَقَالَ رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي» فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِ لِعُثْمَانَ، وَهُوَ مِنْ أَفْضَلِهِمْ، فَلَمَّا مَاتَتْ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَقِي بِسَلَفِنَا عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ»ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے کہا: تمہیں جنت مبارک ہو۔ نبی کریم ﷺ نے اسے غصے کی نظر سے دیکھا اور فرمایا: ”تمہیں کیسے پتا؟“ اس نے کہا: (وہ تو) آپ ﷺ کے شہسوار اور رفیق تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم، مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر عثمان کے بارے میں آپ ﷺ کی یہ بات بہت گراں گزری، حالانکہ وہ ان میں سب سے افضل تھے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ کی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے پیش رو عثمان بن مظعون سے جا ملو۔“