حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَ لَهُمْ، فَتَنَاوَلَ بَعْضُ النَّاسِ قَتْلَ الْوِلْدَانِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ جَاوَزَ بِهِمُ الْقَتْلُ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا هُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: «خِيَارُكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ، أَلَا لَا تُقْتَلُ الذُّرِّيَّةُ، كُلُّ نَسَمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا، فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا وَيُنَصِّرَانِهَا»
ترجمہ

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی، تو کچھ لوگوں نے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا، یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہوا کہ ان کا قتل بچوں کے قتل تک جا پہنچا؟“ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! وہ تو صرف مشرکین کی اولاد ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی ہی اولاد ہیں، سن لو! بچوں کو قتل نہ کیا جائے، ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان کھلتی ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 825
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 284، حدیث 829