المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الأسود بن سريع المجاشعي باب: سیدنا اسود بن سریع مجاشعی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى أَبِي الْهَيْثَمِ، وَكَانَ عَاقِلًا، ثنا الْحَسَنُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، وَكَانَ رَجُلًا شَاعِرًا، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، قَالَ: أَفْضَى بَيْنَهُمُ الْقَتْلُ أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَوَلَيْسَ خِيَارُكُمْ أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ، حَتَّى يُعْرِبَ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: وہ ایک شاعر تھے، اور اس مسجد میں سب سے پہلے قصہ گوئی کرنے والے تھے۔ انہوں نے بیان کیا: جنگ میں قتل و غارت اس حد تک پہنچ گئی کہ انہوں نے بچوں کو بھی قتل کر دیا، یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد میں سے نہیں ہوتے؟ کوئی بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہونے کے سوا پیدا نہیں ہوتا، یہاں تک کہ وہ صاف بولنے لگے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، یا نصرانی، یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“