❮
❯
حدیث نمبر: 8210
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقٍ قَالَ خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ وَالسَّادسُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بَيْعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَبَّهُ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ، قَالَ: «اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ، ثُمَّ انْضَحُوا مَكَانَهَا مِنَ الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا» . فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ وَالْمَاءُ يَنْشَفُ. قَالَ: «فَمُدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا» . فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا، فَفَعَلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا وَرَاهَبَنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ، فَنَادَيْنَا بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ
ترجمہ

سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم چھ آدمی وفد بن کر اللہ کے نبی ﷺ کی طرف نکلے، پانچ بنو حنیفہ میں سے تھے اور چھٹا بنو ضبیعہ بن ربیعہ کا ایک آدمی تھا، یہاں تک کہ ہم اللہ کے نبی ﷺ کے پاس پہنچے، ہم آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ہماری سرزمین میں ہمارا ایک گرجا (عبادت خانہ) ہے، اور ہم نے آپ ﷺ سے آپ ﷺ کے وضو کے بچے ہوئے پانی میں سے مانگا۔ آپ ﷺ نے پانی منگوایا، اس سے وضو کیا اور کلی کی، پھر وہ ہمیں ایک برتن میں ڈال کر دے دیا اور فرمایا: ”یہ پانی لے جاؤ، جب تم اپنے شہر پہنچو تو اپنا گرجا گرا دو، پھر اس جگہ اس پانی کے چھینٹے مارو، اور اس جگہ کو مسجد بنا لو۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، شہر دور ہے اور پانی خشک ہو جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس میں پانی ملا لینا، وہ اس کی پاکیزگی (برکت) میں اضافہ ہی کرے گا۔“ چنانچہ ہم وہ پانی لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ اپنے شہر پہنچے، تو ہم نے وہی کیا جس کا ہمیں حکم دیا گیا تھا۔ اس دن ہمارا راہب قبیلہ طی کا ایک آدمی تھا، ہم نے نماز کی اذان دی، اس پر اس راہب نے کہا: یہ حق کی پکار ہے، پھر وہ بھاگ گیا اور ہم نے اسے پھر کبھی نہیں دیکھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8210
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 332، حدیث 8241