المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طهفة بن قيس الغفاري، ويقال طخفة، كان ينزل المدينة باب: سیدنا طہفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ، کہا جاتا ہے طخفہ، مدینہ میں رہتے تھے
حدیث نمبر: 8195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا زُهَيْرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرِ، عَنِ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، أَضَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ، فَبَاتُوا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَوَجَدَهُ مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ، فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ فَأَيْقَظَهُ، فَقَالَ: «لَا تَضْطَجِعْ هَكَذَا، فَإِنَّهَا ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ»ترجمہ
ابن طخفہ غفاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں چند لوگوں کے ساتھ اپنا مہمان بنایا، تو انہوں نے آپ ﷺ کے ہاں رات گزاری، پھر رسول اللہ ﷺ رات کو باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ اپنے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے ہیں، آپ ﷺ نے انہیں اپنے پاؤں سے ٹہوکا دے کر جگا دیا، پھر فرمایا: ”اس طرح مت لیٹو، یہ جہنمیوں کا لیٹنے کا انداز ہے۔“