المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طلحة بن عمرو النصري باب: سیدنا طلحہ بن عمرو نصری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَشْكِيبَ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، كِلَاهُمَا عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بِالْمَدِينَةِ عَرِيفٌ يَنْزِلُ عَلَيْهِ نَزَلَ مَعَ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، وَكَانَ لِي بِهَا قُرَنَاءُ، وَكَانَ يَجْرِي عَلَيْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ يَوْمٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ مُدَّانِ مِنْ تَمْرٍ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ إِذَا نَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أْحَرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا، وَتَحَرَّقَتْ عَنَّا الْحَتْفُ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَامَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الشِّدَّةِ قَالَ: «فَكُنْتُ أَنَا وَصَاحِبَيَّ بَضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرُ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَوَاسَوْنَا فِي طَعَامِهِمْ، وَعِظَمُ طَعَامِهِمِ التَّمْرُ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَوْ أَجِدُ لَكُمِ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ تُدْرِكُوا زَمَانًا أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ يَلْبَسُونَ فِيهِ مِثْلَ سِتَارِ الْكَعْبَةِ، يُغْدَى عَلَيْكُمْ، وَيُرَاحُ فِيهِ بِالْجِفَانِ»سیدنا طلحہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا اور مدینہ میں اس کا کوئی جاننے والا نہ ہوتا جس کے پاس وہ ٹھہرے تو وہ اصحابِ صفہ کے ساتھ ٹھہرتا، اور میرے بھی وہاں کچھ ساتھی تھے، اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہر روز دو آدمیوں کے درمیان دو مُد کھجوریں دی جاتی تھیں، ایک دن رسول اللہ ﷺ کسی نماز میں تھے کہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک نے پکار کر کہا: اے اللہ کے رسول، کھجور نے ہمارے پیٹ جلا دیے، اور موت ہم سے دور ہو گئی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کی تو کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی سختی کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اور میرے دو ساتھیوں نے دس سے کچھ زیادہ دن ایسے گزارے کہ ہمارے پاس بریر (ایک جنگلی پھل) کے سوا کوئی کھانا نہ تھا، یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس پہنچے، تو انہوں نے اپنے کھانے میں ہمیں شریک کیا، اور ان کا بیشتر کھانا کھجور تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اگر مجھے تمہارے لیے روٹی اور گوشت ملتا تو میں تمہیں ضرور کھلاتا، اور شاید تم یا تم میں سے کوئی ایسا زمانہ پائے جب لوگ کعبے کے پردے جیسے کپڑے پہنیں گے، اور صبح شام تمہارے سامنے کھانے سے بھرے بڑے برتن لائے جائیں گے۔“