حدیث نمبر: 8122
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْكِحْنِي فُلَانَةَ، قَالَ: «مَا مَعَكَ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ وَتُعْطِيهَا؟» قَالَ: مَا مَعِي شَيْءٌ. قَالَ: «لِمَنْ هَذَا الْخَاتَمُ؟» قَالَ: لِي. قَالَ: «فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ» ، «وَأَنْكَحَهُ، وَأَنْكَحَ آخَرَ عَلَى سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ شَيْءٌ»
ترجمہ

سیدنا ضمیرہ بن ابی ضمیرہ رضی اللہ عنہ کے دادا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول، میرا فلاں عورت سے نکاح کروا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس اسے مہر دینے کے لیے اور عطا کرنے کے لیے کیا ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ انگوٹھی کس کی ہے؟“ اس نے کہا: میری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہی اسے دے دو۔“ اور آپ ﷺ نے اس کا نکاح کروا دیا، اور ایک اور شخص کا نکاح سورۃ البقرہ سکھانے کے بدلے کروا دیا جس کے پاس کچھ نہیں تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الضاد / حدیث: 8122
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 307، حدیث 8153