حدیث نمبر: 8114
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ، ثنا مِنْدَلٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زِيَادٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: لَمَّا سَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ جَعَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ، فَقَالَ: «مَنْ دَخَلَ النَّخْلَ فَهُوَ آمِنٌ» فَلَمَّا تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى بِهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَضَحِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُضْحِكُكَ؟» ، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «إِنَّ جِبْرِيلَ يَقُولُ إِنِّي أُحِبُّكَ» . قَالَ: وَبَلَغْتُ أَنْ يُحِبَّنِي جِبْرِيلُ قَالَ: «نَعَمْ، وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ جِبْرِيلَ اللهُ تَعَالَى»
ترجمہ

…ابراہیم بن بشیر انصاری، ضحاک انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے لشکر کے آگے مقرر فرمایا، اور فرمایا: ”جو کھجوروں کے باغ میں داخل ہو جائے وہ محفوظ ہے۔“ جب نبی کریم ﷺ نے یہ بات فرمائی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے پکار کر اعلان کیا، اس پر نبی کریم ﷺ نے سیدنا جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے ہنسایا؟“ فرمایا: میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جبریل فرماتے ہیں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“ انہوں نے عرض کیا: کیا مجھے یہ رتبہ نصیب ہوا کہ جبریل مجھ سے محبت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور جو جبریل سے بھی بہتر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الضاد / حدیث: 8114
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 301، حدیث 8145