المعجم الكبير للطبراني
باب الضاد— حرف ضاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند ضرار بن الأزور باب: سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ثنا مَاجِدُ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ: وَفَدْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَقَفْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْشُدُكْ، قَالَ: «أَنْشِدْ» . قَالَ: قُلْتُ:
[البحر المتقارب]
جَعَلْتُ الْقِدَاحَ، وَعَزْفَ الْقِيَانِ ... وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا
وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ ... وَشَدِّي عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْقِتَالَا
فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ بَيْعَتِي ... فَقَدْ بِعْتُ نَفْسِي وَأَهِلِّي بَدَالَا
ضَحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ الْفِهْرِيُّ الْقُرَشِيُّ «أَخُو فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، يُكْنَى أَبَا سَعِيدٍ هُوَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسِ بْنِ خَالِدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ وَاثِلَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ شَيْبَانَ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ، وَأُمُّهُ أُمَيْمَةُ بِنْتُ رَبِيعَةَ مِنْ كِنَانَةَ، وَهِي أُمُّ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أُخْتُ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، قُتِلَ الضَّحَّاكُ يَوْمَ مَرْجِ رَاهِطٍ، بَعْدَ وَفَاةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، لَمَّا بُويِعَ لِمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ»میں دربار میں حاضر ہوا، جب آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میں آپ کو اشعار سناؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سناؤ۔“ میں نے کہا: [بحر متقارب]
”میں نے جوئے کے تیروں، گانے بجانے اور شراب کو (چھوڑ کر) عبادت و التجا بنا لیا۔ اور میدانِ کارزار میں اپنے سجے ہوئے گھوڑے کا دوڑانا، اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں سختی کرنا (بھی چھوڑ دیا)۔ اے میرے رب، میری بیعت خسارے میں نہ رہے، کیونکہ میں نے اپنی جان اور اپنے گھر والوں کو اس کے بدلے بیچ دیا ہے۔“
ضحاک بن قیس فہری قرشی، سیدہ فاطمہ بنت قیس کے بھائی، جن کی کنیت ابوسعید تھی، وہ ضحاک بن قیس بن خالد بن وہب بن ثعلبہ بن واثلہ بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ ہیں، ان کی والدہ امیمہ بنت ربیعہ کنانیہ تھیں، وہی سیدہ فاطمہ بنت قیس، ضحاک بن قیس کی بہن، کی بھی والدہ تھیں۔ ضحاک، یزید بن معاویہ کی وفات کے بعد، جب چونسٹھ ہجری میں مروان بن حکم کی بیعت لی گئی تو مرج راہط کے دن قتل ہوئے۔