المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ هَارُونَ الْعُكْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدَةُ، قَالَا: ثنا زَيْدٌ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى أَبَا ذَرٍّ قِنًّا فَقَالَ: «أَطْعِمْهُ مِمَّا تَأْكُلُ، وَاكْسِهِ مِمَّا تَلْبَسُ» ، وَكَانَ لِأَبِي ذَرٍّ ثَوْبٌ، فَشَقَّهُ نِصْفَيْنِ، فَائْتَزَرَ نِصْفَهُ، وَأَعْطَى الْغُلَامَ نِصْفَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي أَرَى ثَوْبَكَ هَكَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْتَ: أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قُلْتُ: أَعْتِقُهُ؟ قَالَ: «آجَرَكَ اللهُ يَا أَبَا ذَرٍّ»سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ایک غلام دیا اور فرمایا: ”جو تم خود کھاؤ اسی میں سے اسے کھلاؤ، اور جو تم خود پہنو اسی میں سے اسے پہناؤ۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کپڑا تھا، انہوں نے اسے دو حصوں میں پھاڑ دیا، ایک حصے کا تہبند خود باندھ لیا اور دوسرا حصہ غلام کو دے دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا بات ہے، میں تمہارا کپڑا اس طرح دیکھ رہا ہوں؟“ عرض کیا: اے اللہ کے رسول، آپ نے ہی تو فرمایا تھا کہ جو خود کھاؤ اسی میں سے انہیں کھلاؤ اور جو خود پہنو اسی میں سے انہیں پہناؤ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ عرض کیا: تو کیا میں اسے آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر، اللہ تمہیں اس کا اجر دے۔“