المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلِ السِّرَاجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَاهِلَةَ، فَأَتَيْتُ وَهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، فَرَحَّبُوا بِي وَأَكْرَمُونِي، وَقَالُوا: تَعَالَ فَكُلْ، فَقُلْتُ: جِئْتُ لِأَنْهَاكُمْ عَنْ هَذَا الطَّعَامِ، وَأَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَيْتُكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِهِ، فَكَذَّبُونِي وَزَبَرُونِي، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا جَائِعٌ ظَمْآنُ قَدْ نَزَلَ بِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَنِمْتُ فَأُتِيتُ فِي مَنَامِي بِشَرْبَةٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ وَرَوَيْتُ وَعَظُمَ بَطْنِي، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَتَاكُمْ رَجُلٌ مِنْ خِيَارِكُمْ وَأَشْرَافِكُمْ فَرَدَدْتُمُوهُ، فَاذْهَبُوا إِلَيْهِ فَأَطْعِمُوهُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مَا يَشْتَهِي، فَأَتَوْنِي بِطَعَامٍ، قُلْتُ: «لَا حَاجَةَ لِي فِي طَعَامِكُمْ وَشَرَابِكُمْ، فَإِنَّ اللهَ قَدْ أَطْعَمَنِي وَسَقَانِي» . فانظروا إِلَى الْحَالِ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا، فَنَظَرُوا فَآمَنُوا بِي، وَبِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے قبیلہ باہلہ کی طرف بھیجا، تو میں ان کے پاس آیا جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے میرا استقبال کیا اور میری عزت افزائی کی، اور کہا: آؤ کھاؤ۔ میں نے کہا: میں تو تمہیں اس کھانے سے روکنے آیا ہوں، اور میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ تم اس پر ایمان لاؤ، تو انہوں نے مجھے جھٹلایا اور مجھے ڈانٹ دیا، تو میں بھوکا پیاسا، سخت تکلیف کی حالت میں وہاں سے چل پڑا، پھر میں سو گیا تو مجھے خواب میں دودھ کا ایک گھونٹ دیا گیا، میں نے پیا اور سیراب ہو گیا اور میرا پیٹ بڑھ گیا، تو لوگوں نے کہا: تمہارے پاس تمہارے بہترین اور شریف لوگوں میں سے ایک آدمی آیا اور تم نے اسے ٹھکرا دیا، جاؤ اس کے پاس جو کھانا پینا چاہے وہ اسے دو۔ چنانچہ وہ میرے پاس کھانا لائے، میں نے کہا: ”مجھے تمہارے کھانے پینے کی ضرورت نہیں، اللہ نے مجھے کھلا اور پلا دیا ہے۔“ اب میری حالت دیکھو۔ انہوں نے دیکھا تو مجھ پر اور اس پیغام پر ایمان لے آئے جو میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے لے کر آیا تھا۔