حدیث نمبر: 8026
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ، فَوَهَبَ أَحَدَهُمَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَقَالَ: «لَا تَضْرِبْهُ، فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي» . وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ غُلَامًا، وَقَالَ: «اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا» فَأَعْتَقَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ الْغُلَامُ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ؟» قَالَ: أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ مَعْرُوفًا، فَأَعْتَقْتُهُ
ترجمہ

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خیبر سے واپس تشریف لائے، آپ ﷺ کے ساتھ دو غلام تھے، ایک کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ہبہ فرما دیا اور فرمایا: ”اسے مت مارنا، کیونکہ مجھے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے، اور میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ایک غلام عطا فرمایا اور فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔“ تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وہ غلام جو میں نے تمہیں دیا تھا اس کا کیا بنا؟“ عرض کیا: آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کروں، تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 8026
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 275، حدیث 8057