المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حدیث نمبر: 8024
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي قَطَنُ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو غَالِبٍ قَالَ: جَاءَتْ رُءُوسُ الْأَزَارِقَةِ سَبْعِينَ رَأْسًا، فَأُقِيمُوا عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، فَمَضَتْ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ السَّبْعَةِ، وَكَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ، فَجَاءَ أَبُو أُمَامَةَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ سَارِيَةٍ، وَقَالَ: «كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، خَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مَنْ قَتَلُوهُ» . فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ شَيْءٌ تَقُولُهُ مِنْ قِبَلِ نَفْسِكَ؟ فَقَالَ: «إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ، لَا بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا مَرَّةً وَلَا مَرَّتَيْنِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا»ترجمہ
…پس انہیں سات دن دمشق کی سیڑھیوں پر رکھا گیا، تین دن گزرے، چوتھا دن تھا کہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ایک ستون کے پاس دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”جہنم کے کتے“ — تین بار — ”آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول، آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ ہیں جنہوں نے انہیں قتل کیا۔“ میں نے عرض کیا: اے ابوامامہ، کیا یہ بات آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے یا اپنی طرف سے کہتے ہیں؟ فرمایا: ”میں تو ایسی جسارت نہیں کر سکتا، بلکہ میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے ایک یا دو بار نہیں بلکہ سات بار تک سنی ہے۔“